ہائے رے کھٹمل
Posted by ارتقاءِ حيات on April 28, 2011

پہلے تو مجھے یہ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ اس موضوع شروع بھی کروں کچھ لکھوں بھی کہ نہیں
پھر سوچا لکھنے کے ساتھ گوگل پر بھی کچھ تلاش کرتی ہوں
وجہ کچھ یہ ہے کہ میں کھٹملوں سے تنگ سخت آگئی ہوں گزشتہ 3 سال میں کئی دفعہ کئی فیومیگیشن والوں کا بھلا کرواچکی ہوں مگر اب تک کھٹملوں سے نجات نہیں ملی ،فی الحال گھر تبدیل نہیں کیا جاسکتالیکن میں نے آخری دفعہ اسپرے کرواکر سارا فرنیچر بیچ ڈالا تھا اور نیا فرنیچر بھی لے لیا تھا
مگراب
دوبارہ سے کھٹمل نمودار ہوگئے ہیں۔
گھریلوٹوٹکے اور فیومیگیشن کو آزماچکی ہوں۔مجھے اس بارے میں پوچھتے ہوئے جھجک بھی محسوس ہورہی ہے کیونکہ لوگ گھروں میں کھٹمل پڑنے کو اچھا نہیں سمجھتے۔دراصل ہماری کچھ ماسیوں کے گھر کھٹمل ہیں اور ان ہی کے ساتھ ہجرت فرماکرہمارے غریب خانے پر براجمان ہوگئے ہیں۔
اگر آپ کو اس سے نجات کے بارے میں کچھ علم ہوتو ضرور بتائیں
خدارا جنگ یا کسی اور روزنامے والی فیومیگیشن سروس کے بارے میں نہیں بتائیے گا کیونکہ اس بارے میں میرا تلخ تجربہ ہے۔
ویسے میں اس کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک امتحان بھی سمجھتی ہوں۔
اللہ آسانی فرمائے گا۔
اب مزید پریشانی یوں ہوئی کہ انٹرنیٹ پر مختلف ممالک کے چند تلخ تجربے اور ان کے حقائق سامنے آئے ہین کہ یہ کبھی ختم نہیں ہوئے پوری طرح سے جانے کیا کرنا ہوگا ان کا۔
اب کچھ ان خون چوسنے والے حشرات کے بارے مین بھی جان لیجئے
اپنی رائے اور تجربے ضرور شیئر کیجئے گا
شکریہ
ْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھٹمل سے انسان کا بڑا ہی پرانا رشتہ ہے۔ شہر ہو یادیہات وہ ہر جگہ اس کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ کھٹمل خون چوسنے کے لیے بہت مشہور ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ اس کے منہ میں بہت ہی تیز باریک سوئیاں ہوتی ہیں جو کھال کو چھید کر گھس جانے اور پھر خون چوسنے کا کام کرتی ہیں۔ کبھی کبھی تو یہ سرخ رنگ کا ننھا سا کیڑا طاقت ور اور بہادر انسان کا خون چوس کر اس کی نیند حرام کر کے اپنی برتری کا ببانگ دہل اعلان کرتا ہے۔
کھٹمل جس کا سائز عام طور پر چاول کے ایک دانے کے برابر ہوتا ہے، کافی سخت جان طفیلی جاندار ہے۔ اس کی اوسط عمر 10 ماہ کے قریب ہوتی ہے۔ کھٹمل ویسے تو جانداروں کے خون سے اپنی بھوک مٹاتا ہے تاہم اس کے سخت جان ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کیڑا کسی کا خون چوسے بغیر بھی ہفتوں زندہ رہ سکتا ہے۔ دوسری طرف اس کی مادہ افزائش نسل کے حوالے سے کافی فعال واقع ہوئی ہے اور اپنی زندگی میں ساڑھے تین سو تک انڈے دیتی ہے۔ اسی لئے یہ پیراسائٹ جہاں کہیں بھی ہو، اس کی آبادی میں اضافہ بڑی تیز رفتاری سے ہوتا ہے۔
کھاٹ، کھٹولی ہو یا پلنگ، چارپائی، ٹرین کے ڈبے ہوں یا سینما گھر کی کرسیاں ہر شگاف میں کھٹمل اپنا مسکن بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ کھٹمل کو عرف عام میں کھٹ کیڑا بھی کہتے ہیں۔ آئیے آج اس کھٹ کیڑے کے بارے میں کچھ جانکاری حاصل کریں:
ا۔ کھٹمل یا اڑس ہندی لفظ ہے جس کو عربی میں کتان ، فارسی میں شب گز، بنگلہ میں چھار پورکا اور انگریزی میں Bedbugکہتے ہیں۔
٢۔ یہ کیڑے کی جس جماعت سے تعلق رکھتا ہے اس کا نام ہیمی پیٹرا Hemepetra ہے ویسے اس کا سائنسی نام Cimex Lectulariusہے۔
٣۔ یہ کم وبیش ساری دنیا میں پایا جاتا ہے۔ لیکن اسے گر م اور مرطوب جگہ زیادہ پسند ہے۔
٤۔ گھروں میں عام طور پر دو قسم کے کھٹمل پائے جاتے ہیں ایک کا سائنسی نام Cimex Lectularius تو ہے ہی دوسرے کا سائنسی نام Cimex Rotundatusہے۔ پہلا برصغیر کی تمام جگہوں کے علاوہ بعض بیرونی ممالک میں پایا جاتا ہے۔ جبکہ دوسرا شمالی ہندستان اور یورپ کے کچھ علاقوں میں زیادہ نظر آتا ہے۔ دونوں کی عادات و اطوار اور دورِ حیات کم و بیش ایک ہی جیسا ہے۔
٥۔ کھٹمل بے پر کا Wingless کیڑا ہے۔ جسم اس کا چوڑا، چپٹا اور بیضوی Ovalشکل کا ہوتا ہے۔
٦۔ سر اس کا دبکا ہوا Squatلیکن مونچھیں antennaeبڑی ہوتی ہیں۔
٧۔ کھٹمل کے جسم کی لمبائی 6 ملی میٹر 0.25انچ تک ہوتی ہے۔
٨۔ کھٹمل رات کا کیڑا Nocturnal Insectہے۔ یہ رات میں بڑا چاق و چوبند رہتا ہے۔ دن کو اندھیرے کی جگہ آرام کرنا پسند کرتا ہے لیکن سخت بھوک کی حالت میں شکار ملنے پر دن میں بھی نکل کر اپنا پیٹ بھرتا ہے۔
٩۔ کھٹمل کا اصلی رنگ ہلکا بھورا ہوتا ہے۔ مگر سیر شکم ہونے پر اس کا رنگ زنگ کی طرح سرخ Rust Red ہوجاتا ہے۔
١٠۔ کھٹمل کی مادہ سیر شکم ہونے کے بعد دن میں دراڑوں یعنی شگافوں میں کھردری جگہ انڈے دیتی ہے۔ یہ ساری زندگی میں لگ بھگ دو سو انڈے دیتی ہے۔ انڈے دینے کے زمانے میں بارہ انڈے روزانہ کے حساب سے انڈے دیتی ہے۔
١١۔ انڈوں سے بچے چھ سے سترہ دنوں کے اندر نکلتے ہیں جو نمفس Nymphs کہلاتے ہیں۔
١٢۔ پیدائش کے وقت نمفس ہلکے پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ غذا سے پیٹ بھرنے کے بعد ان کا رنگ گہرا ہوجاتا ہے۔
١٣۔ بچے تقریباً دس ہفتوں میں بالغ ہوجاتے ہیں۔
١٤۔ بچے پیدائش کے فوراً بعد ہی خون چوسنے کے قابل ہوجاتے ہیں حتیٰ کہ وہ اپنے ساتھیوں کا بھی خون چوسنے لگتے ہیں جن کے پیٹ خون سے بھرے ہوتے ہیں۔
١٥۔ خون چوسنے کے بعد کھٹمل کا جسم پھول جاتا ہے۔
١٦۔ کھٹمل انسانوں کا خون تو چوستا ہی ہے اس کے سوا بعض پستانیے اور گرم خون والے جانوروں کا بھی خون چوستا ہے۔
١٧۔ یہ انسانوں کے بدن کی گرمی اور اس کی خارج کی ہوئی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی بو کو آسانی سے محسوس کرلیتا ہے اور جیسے ہی محسوس ہوتا ہے فوراً کاٹنے کے لیے دوڑ پڑتا ہے چاہے دن ہی کیوں نہ ہو۔
١٨۔ کھٹمل خون چوسنے کے لیے اپنی سونڈ Proboscisکو جلد پر اوپر نیچے کر کے چبھوتا ہے اس کے بعد اپنے منہ سے لعاب داخل کرتا ہے۔ یہ لعاب خون کو جمنے نہیں دیتا اس کے بعد لعاب سے ملا ہوا خون چوسنے لگتا ہے۔
١٩۔ کھٹمل کو سیر شکم ہونے میں پانچ سے دس منٹ لگتے ہیں۔
٢٠۔ کھٹمل عام طور پر ٢ یا ٣ مرتبہ لگا تار کاٹتا ہے۔
٢١۔ جب کھٹمل حلق تک خون چوس لیتا ہے تو پھر کسی پوشیدہ جگہ چھپ کر اطمینان کے ساتھ تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ جاتا ہے اور غذا کو آہستہ آہستہ ہضم کرتا ہے۔
٢٢۔ کھٹمل اگر کسی وجہ سے چارپائی یا بستر پر پہنچ نہیں پاتا تو دیوار پر چڑھ کر چھت سے سونے والے کے جسم پر گر کر خون چوسنے لگتا ہے۔
٢٣۔ کھٹمل کو غذا نہ ملنے پر اس کی نشوو نما میں کمی میں آجاتی ہے لیکن جیسے ہی غذا فراہم ہوجاتی ہے پھر اس کی نشو ونما میں تیزی آجاتی ہے۔
٢٤۔ کھٹمل کے صرف کاٹنے پر نہ احساس ہوتا ہے اور نہ ہی درد ہوتا ہے۔ درد اس وقت ہوتا ہے جب یہ اپنا لعاب جلد میں داخل کر دیتا ہے بلکہ اسی لعاب کے کیمیائی عمل کی وجہ سے سوزش بھی پیدا ہوجاتی ہے۔
٢٥۔ کھٹمل جب اپنا لعاب جلد میں داخل کردیتا ہے تو کھجلی پیدا ہوتی ہے اور متاثرہ حصہ سرخ ہوکر ابھر جاتا ہے۔
٢٦۔ کھٹمل کے چھ پیر ہوتے ہیں اور یہ رینگ کر چلتا ہے۔
٢٧۔ کھٹمل ٹھیک صبح صادق کے قبل زیادہ کاٹتا ہے۔
٢٨۔ کھٹمل کی کثیر تعداد ایک جگہ جمع ہوتو ایک طرح کی ناگوار بو خارج ہوتی ہے۔
٢٩۔ کھٹمل کے دشمن انسان کے سوا شاذ و نادر ہی کوئی دوسرے جانور ہوں حتیٰ کہ چھپکلی بھی اسے منہ نہیں لگاتی ہے۔
٣٠۔ کھٹمل کے انڈے سے بچے نکلتے ہیں تو ان کے بالغ ہونے تک وقفے وقفے سے پانچ مرتبہ ان کی کھال گرتی ہے اور نئی کھال نکلتی ہے۔ اسی کو سائنس کی زبان میں پر جھاڑنا Moultingکہتے ہیں۔
٣١۔ کھٹمل کا شمار بیماری پھیلانے والے کیڑوں میں نہیں ہوتا۔ حقیقت صرف اتنی ہے کہ اس کے کاٹنے سے کھجلی ہوجاتی ہے
کھٹمل سے بچاؤ کی تدابیر:
ا۔ سب سے پہلے بستروں پر اسے چڑھنے سے روکا جائے۔ اس کے لیے پلنگ یا چارپائی کے پایوں کے نیچے سے کم از کم دو انچ اونچائی تک معدنی تیل یا Vaseline لگادی جائے
٢۔ ضرورت پڑنے پر کیڑے مار دوائیاں مثلاً Gentrolجنٹرول یا Phantomفانٹم استعمال کی جائیں۔ احتیاط یہ برتی جائے کہ ان دوائیوں سے لحاف، گدے اور چادر وغیرہ محفوظ رہیں۔
٣۔ گاہے گاہے پلنگ، چارپائی اور چوکی پر گرم پانی بہایا جائے۔
نوٹ: بے کار رہی ہیں میرے لئے تو۔۔۔۔۔
کھٹمل کے کاٹنے پر :
١۔ کاٹنے کی جگہ کو عفونت رفع صابن Antiseptic Soapسے صاف کرنا چاہيے۔
٢۔ پھولے ہوئے مقام پر لگاتار برف کے ٹکڑوں سے رگڑنا چاہيے۔
٣۔ شدید کھجلی ہونے پر Calamine Lotion یا کوئی دوسری کریم لگانا چاہیے۔ شدید تکلیف ہو تو دافع درد دوائی کا استعمال کرنا چاہيے لیکن ڈاکٹر کے صلاح مشورے کے بعد۔
٤۔ وہ پودے جن سے کھٹمل بھگائے جاتے ہیں انہیں Bug Waneیا Bug Wortکہتے ہیں۔
نوٹ:مجھے کبھی ایسی کوئی شکایت نہیں ہوئی ہے




یاسر خوامخواہ جاپانی said
اس کھٹمل کی وجہ سے میں بچپن میں بہت پریشان رہتا تھا۔آپ گرمیوں کا بتا رہی ہیں اور ہمارا علاقہ تو کافی سرد ہے اور گرمیوں میں بھی رات کو ہم لوگ لحاف لے کر سوتے ہیں۔
شاید صفائی کا خاص خیال نہ کرنے سے سردیوں میں ہمیں یہ کھٹمل کاٹتے تھے۔
Taheem said
حل کیا نکلا یہ تو بتایا ہی نہیں
کوئی ہے جو مجھے اس کا درست حل بتا سکے کیسے ان موذی حشرات سے چھٹکارا حاسل ہو
pakaroosa said
yuukkkkkhhh!!!!!!
ارتقاءِ حيات said
خیریت کیا ہوا؟
یاسرخوامخواہ جاپانی said
حل تو ہمارے پاس بھی نہیں ہے۔
بس کھرکی جائیں۔
ارتقاءِ حيات said
اب اللہ کا کرم ہے آرام ہے ان سے
ڈاکٹر جواد خان said
کھٹملوں سے نجات کا طریقہ آپ خود ہی بیان فرما چکی ہیں اور بچپن میں نے ذاتی طور پر اسکی افادیت کا مشاہدہ کیا ہے. بہت سال پہلے جب دادی کی چار پائی میں کھٹمل ہو گئے تھے . تب میری پھوپھی نے چار پائی صحن میں نکالی اور کھولتے ہوے پانی کو اسکی بان اور لکڑی کے کونوں کونوں میں ڈالا. کھٹمل بھاگتے دوڑتے نکلے. پھر کافی در تک تیز دھوپ لگائی کھٹملوں سے نجات ملی. پتا نہیں آپکے یہاں یہ طریقہ کیوں کامیاب نہیں ہو سکا.
Taheem said
محترم جواد صاحب طریقہ کار کے نیچھے درج کر دیا ہے میں نے یہ میرے گھر میں کارگر نہیں ہیں
ایک چارپائی کے ہوں تو بات الگ ے یہاں صوفوں گدوں الماریوں شیلف کپڑوں اور گھر کے دیگر کونے کھودروں میں بھی ہو چکے ہیں
ہمارے نئے کرائے دار حضرات اپنے ساتھ یہ بن بلائے مہمان بھی لے آئے تھے مگر شوہر نے جب ان کے گھر سے کھٹمل آتے دیکھے تو انہیں رخصت کر دیا تھا
مگر جاتے جاتے وہ یہ سوغات چھوڑ گئے جس کی بناء پر ان کرائے داروں کو مدت تک دل سے دعائیں دینے کو دل چاہتا ہے
اب جانے کیا کچھ نہیں کر دیا ہے پر حل ندارد۔۔۔۔۔!!!
ڈاکٹر جواد خان said
آپ اپنی پوسٹ میں تحریرسے پہلے مندرجہ ذیل فارمٹ لگا دیا کریں. آپکی تحریر نوری نستعلیق فونٹ میں آجائے گی . لیکن یہ کام آپکو HTML ایڈیٹر پر کرنا ہوگا اور ہر پراگرف پر یہ فارمٹ تحریر سے پہلے لگانا ہوگا. فارمٹ اس طرح سے ہے ؛
ڈاکٹر جواد خان said
Taheem said
آپ کا کوئی بھی فارمیٹ دیکھائی نہیں دے رہا ہے
دوبارہ لکھ سکیں گے؟
ڈاکٹر جواد احمد خان said
پکا بلاگ فارمیٹ قبول نہیں کر رہا. آپ ایسا کیجئے اس بلاگ پر جا کر ٹٹوریل دیکھئے جس میں اردو ایچ ٹی ایم ایل کو جمیل نوری نستعلیق میں تبدیل کرنے کا طریقہ بتایا تھا . مجھے اس بلاگ کے بارے میں حجاب نے بتایا تھا میں آپکو بتا رہا ہوں .
http://utemps.blogspot.com/2010/06/wordpresscom-urdu-blog.html
تحریم said
جھانک کر چلے گئے آپ تو خیر تو ہے جی؟
عادل بھیا said
السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔۔۔۔ آج اس بلاگ پر پہلی مرتبہ تشریف آوری ہوئی۔ گویا ہمارے بلاگستان میں ایک بلاگ کا مزید اضافہ ہوچکا ہے۔ لیکن یہاں آتے ہی آپنے اتنے بڑے کھٹمل کی شکل سے ڈرا دیا۔ تحریم تصویر کا سائز کُچھ کم ہی کر لیتی۔ خیر مُجھے کبھی ایسی صورتحال سے سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن پھر بھی آپنے جو صورتحال بتائی اس میں تو یہی کہہ سکتا ہوں کہ گرمیاں تو شروع ہو ہی چُکی ہیں۔ آپ ایک مرتبہ اپنے پورے گھر کے فرنیچر کو دھوپ لگوا کر صاف کروا لیجئیے اور ایک ایک کر کے تمام کمرے دھو لیجئیے۔ اُمید ہے کہ ایک مرتبہ کے اس وسیع پیمانے کے کھٹمل مار آپریشن سے آپکے مسئلہ میں کافی کمی ہوگی۔
خیر تحریم۔۔ آپکے بلاگ پر فانٹ سائز کافی کم ہے۔ تھوڑی سی مزید توجہ دینے سے یہ بھی بہتر ہوجائے گا۔
Taheem said
گوگل سے جو تصویر کا سائز ملا وہی لگا دیا ابھی ایڈٹ کرنا سائز کم کرنا اور تحریر کو علوی نستعلق میں تبدیل کرنا نہیں آرہا ہے
میرے بلاگ کے تحریر کے آپشن میں فانٹ کا سائز بھی دکھائی نہیں دیتا
جانے تھیئم کا مسئلہ ہے یا کچھ اور
جعفر said
کھٹملوں سے لے کر فرعون کی سڑی ہوئی لاش تک
بی بی، کچھ ایسا بھی لکھیں کہ پڑھنے والوں کی بھوک نہ مرے
Taheem said
بھوک ہمیں تو لگتی ہی نہین انہیں گھر میں ہر جگہ دیکھ کر
سوچا کیوں نہ دوسروں کی بھی اڑا دیں
جعفر said
آپ کا جواب ، سن کے ہمیں کسی کی یاد آگئی
اب پتہ نہیں یہ اتفاق ہے یا؟؟؟؟۔۔
Taheem said
بھائی جعفر کس کی یاد آئی کچھ بتائیں گے نہیں؟
عطاء رفیع said
یقین جانیں مجھے کھٹمل نام سے ہی جھری آجاتی ہے۔ دیکھ لوں تو خخخخخخخ
Taheem said
کبھی سوچیئے آپ کے گھر بھی ان کا مسکن بن جائے
ایسا ہو تو سوچو کیاہو۔۔۔۔۔۔
عطاء رفیع said
آپ ایسا کیوں سوچتی ہیں؟ بھلا ہمارا گھر ہی کیوں، آپ کا کیوں نہیں؟
Taheem said
آپ نے دھیان سے نہیں پڑھا
میں ہی خاص پریشان ہون ان خونخوار حشرات سے
Darvesh Khurasani said
اتنے بڑے کٹمل کو دیکھ کر میں نے ایک جرجری لی۔
یہ کٹملوںوالا مسئلہ دوبئی میں رہنے والے پاکستانیوں کے ساتھ بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ایک بار ان کٹملوں سے نجات کیلئے ایک صاحب نے پورے اپارٹمنٹ میں مٹی کے تیل کا چڑکاؤ کیا ۔ تاکہ یہ کٹمل مر جائیں۔ جب اخر میں تھک گئے اور بھوک نے ستانا شروع کیا تو بس کچن میں جاکر انہوں نے کھانا پکانے کیلئے جو چولھا جلایا تو بس سارے کٹمل بھی جل گئے اور۔۔۔۔۔یعنی سب کٹمل جل کر مر گئے۔
ویسے آپ میں سے کوئی اسکا تجربی کرنا چائے تو بالکل ہماری طرف سے میٹھی میٹھی اجازت ہے۔
ہم وکیل کی طرح مشورے کی فیس نہیں لیں گے۔
تجربے کے بعد بھی اگر زندگی نے وفاء کی تو اگاہ کئجئے گا کہ تجربہ کیسا رہا۔
Taheem said
بہت ظالم انسان ہیں کسی کی بے بسی کا یوں مزاق اڑاتے تکلیف کا زرا احساس نہین ہوتا؟
DuFFeR - ڈفر said
پوسٹ تو کوئی نی پڑھی کی مجھے میٹرک کے بیالوجی کا طویل سوال کا طویل ترین جواب لگ را لیکن فیر بھی تبصرہ کر را
ہمارے گھر مین اخیر ہی کھٹمل اور لال بیگ تھے ہم صحن میں چارپائیاں ار پلنگ رکھ کر ہم میں سے ایک اس کے زمین ہپ پٹختا تھا اور دوسرا دے دھڑا دھڑ سلیپروں سے انکو مارتا تھا
لیکن جان چھوٹی جب ابا جانی ایک عدد کوئی ذرعی دوائی لائے اور وہ ہم نے سارے گھر مین سپرے کری اور عید منانے دادی کے گھر چلے گئے
بس جی ایٹمی بم کا کام کرا تھا اس دوائی نے
اسکے بعد کبھی کھٹمل نظر آئے تو دوسرں جے گھروں میں یا فیر بلاگستان میں :ڈ
ارتقاءِ حيات said
کبھی سن لیا میرے گھر کے کھٹملوں نے تو پہنچ جائیں گے آپ کے گھر بھی
AJMAL MAJEED said
بہت ہی عمدہ آرٹیکل ہے باجی صاحبہ۔
میں نے اپنی زندگی میں کٹھمل پہلی بار دبئی میں دیکھا اور میں ان سے بہت تنگ تھا۔ بہت سارے ٹوٹکے آزمائے مگر ایک ٹوٹکا جو باجی صاحبہ کا یہ آرٹیکل دیکھ کرزہن میں آیا کچھ میرے کام آ رہا ہے۔ میں نے بازار سے چار عدد پلاسٹک مگ خریدے اور ان میں زیتون کا تیل ڈال کراپنے بستر کی چاروں ٹانگوں کے نیچے رکھ دیا۔ اور اب میں چین کی نیند سو سکتاہوں۔ میرے کمرے میں کٹھملوں کی آبادی بھی کم ہو رہی ہے۔
تحریم said
شکریہ اجمل بھائی
اچھا یہ بتائیں جب کھٹمل آپ کے گدے اور تکیوں مین چھپ جائیں تو آپ کیا کریں؟
Zero G said
تقریبا 20 دن پہلے اآپ کا آرٹیکل پڑھا
کیا آپ یقیں کریں گی اسی دن سے پیلی بار میرے گھر میں سے کھٹمل نکلے ، یہ سب بھت حیرت انگیز تھا ، پورا رمضان سوتے سوتے اٹہہ کر بیٹہ جاتا تھا بلکہ ایک دو رات تو سو بھی نہیں سکا کافی دوائیاں ڈالی دوا ڈالتے سانس اکہڑ جاتی تھی مگر لگا ریا اور ایک ایسی عجیب و غریب ترکیب (بتا نہیں سکتا) آزمائی کہ کھٹمل بھی سر پیٹتے ہوںگے،
لیکن ایک بات ضرور کہونگا شاید کوئی اتفا ق کرے یا نہ کرے کہ کھٹمل جب بھی ںظر آئے اس کو ماریں نہیں ، فلیش میں بہا دیں یا کچھ ایسا کریں کہ وہ سروائیو نہ کر سکے مگر مارنے سے اس کے مواد سے مزید افزائش نسل ہوتی ہے،
ویسے اکا دکا ابھی بھی نکل ریے ہیں مگر اوور آل امن ہے ۔
تحریم said
افسوس ہو اس خون آشام کی آپ کے گھر دوبارہ آمد کا سن کر
ہم بھی ان کو مارا نہیں کرتے واش بیسن میں بہا دیا کرتے ہیں
اور ان کا نام بھی نہین لیا کرتے
کہیں سن نہ لیں
Zero G said
اور ان کا نام بھی نہین لیا کرتے
———————————
یہ ایک اور عجیب و غریب کہانی ہے بچپن میں سنا کرتے تھے کہ رات میں سانپ کا نام نیہں لینا چاہیئے ورنہ وہ نکل آتا ہے یہ بات سانپ کی حد تک تو غلط ثابت ہوئی پر اس بلا کے لئے کافی حد تک صحیح ہے ۔ ہنسئیےمت میں پڑھا لکھا اور توہمات پر یقین نہیں رکھتا مگر شاید آپ یقین نہ کریں جب جب ہم نے گھر میں زکر کیا کہ یہ اب ختم ہو گئے اسی دن انہوں نے جلوہ دکھایا
اور تو اور
کل تک سب صحیح تھا کل میں نے یہاں اپنا تجربہ شیئر کیا اورآج پھر انکےکئی نئے اڈوں کا سراغ ملا ہے، لہزا خاموشی ہی بھلی
ارتقاءِ حيات said
جی شائد شامت آعمال کا نتیجہ ہی ہیں یہ بھی
Zero G said
یار یہ مسئلہ تو کافی بڑھ رہا ہے کوئی حل بتائے پلیز
تحریم said
چلو ایک اور شکار ہوا ان کا
مبارکاں جی مبارکاں
Glenda Levenhagen said
I admire your piece of work, thankyou for all the great blog posts.
ارتقاءِ حيات said
بلاگ کی پسندیدگی کا شکریہ آتے رہا کیجئے
Qamar said
Hamare Ghar Mein Bhi Ye Bala 3 Saal Pehle Ek Maid Ke Zarye Aai Aur Wo Maid Hamare Han Se To Kaam Chor Ke Gai Magar Ye Khatmal Naam Ki Bala Chhor Ke Chali Gai Abhi Pichle Mahine Uska To Inteqal Hogaya Magar Khatmal Abtak Mojoud Hain Bazar Se Iski Dawa Itni Kharidi Ke Dokandar Ne Bhi Pucha Ke Kia Bechne Keliye Le Ke Jate Ho, Kisi Bhi Qisam Ki Bazar Se Kharidi Huwi Pani Mila Ke Dalney Wali Dawa Se Ya Spray Se Mene Kabhi Koi Khatmal Mara Huwa Nahi Dekha, Jab Bhi Nazar Aya Yato Usko Ragar Ke Mara Ya Jalaya Magar Khatmalo Se Abtak Jan Nahi Chuti Purey 3 Saal Ho Chuke Hain.. Ab Kia Karen Kuch Samajh Nahi Aata.. Hai Kisi Ke Pas Koi Sari-Ul-Asar Totka To Share Kar Ke Sawab’e Dareen Hasil Karen…
ارتقاءِ حيات said
اوپر دیئے گئے نسخہ جات پر عمل کر کے دیکھا آپ نے؟
Muhammad Akram said
محترم بھن جی آپ پریشان نہ ھوں ایک کام کریں کہ لھسن چھیل کر چھوٹے ٹکڑے کر لیں اور تمام بیڈ صوفے وغیرہ کے ان حصوں میں ڈال دیں جو جوڑوں کے ساتھ ھوں جلد ھی تمام کھٹمل بھاگ جایں گے
ارتقاءِ حيات said
شائد آزما چکی ہوں بھائی اکرام یہ ٹوٹکہ بھی
اب نتیجہ یاد نہیں کہ بالکل ختم نہیں کئی چیزوں سے کم ضرور ہوتے ہیں یہ