| Muhammad Amin on سوانح حضرت خواجہ غریب نوا… | |
| ارتقاءِ حيات on ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری | |
| ارتقاءِ حيات on مکروہ۔۔۔حصہ اوّل | |
| ارتقاءِ حيات on احکامِ حجاب اور غامدی (حصہ… | |
| ارتقاءِ حيات on مکروہ۔۔۔حصہ اوّل | |
| Dr. Khalid Nadeem on ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری | |
| ارتقاءِ حيات on معاشرے میں خواتین کی ذمہ … | |
| ارتقاءِ حيات on ملاّ دو پیازہ | |
| محمد سلیم on مکروہ۔۔۔حصہ اوّل | |
| Ameer Mohammad on احکامِ حجاب اور غامدی (حصہ… | |
| Ameer Mohammad on مکروہ۔۔۔حصہ اوّل | |
| ارتقاءِ حيات on مردوں کا پردہ | |
| ارتقاءِ حيات on قریش سے حضرت محمدﷺکا مذاکرہ (آ… | |
| ارتقاءِ حيات on کہکشاؤ ں کی دوریاں | |
| ارتقاءِ حيات on یوم دفاع پاکستان |


Posted by ارتقاءِ حيات on April 21, 2011




This entry was posted on April 21, 2011 at 4:02 PM and is filed under مزاح, گندگی, باورچی خانہ, تصاویر. Tagged: مزاح, باورچی خانہ, تصاویر. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. You can leave a response, or trackback from your own site.
افتخار اجمل بھوپال said
سب سے پہلے ميرے بلاگ پر آنے کا شکريہ
يہ آپ نے کونسا باورچی خانہ دکھايا ہے ؟ ميرے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے ہيں
ميں نے اپنے بلاگ پر آپ کے تبصرے کا جواب لکھا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ آپ بلاگ نہ کھول پائيں اسلئے يہاں بھی نقل کر رہا ہون
ہت شکريہ ۔ ميری تحرير پڑھنے کيلئے آپ نے اتنی کاوش کی جس کيلئے ميں ممنون ہوں ۔ محمد سعد صاحب نے اپنے تبصرہ مين ايک طريقہ لکھ تھا ہے جو يہاں نقل کر رہا ہوں ۔ آپ اس سے استفادہ حاصل کر سکتی ہيں
پی ٹی سی ایل جس انداز سے اپنے سرور چلاتا ہے، اس میں کوئی مسئلہ تو ضرور ہوگا کیونکہ ان کے ڈی این ایس سرورز کے ساتھ کئی بار کچھ ویب سائٹس اچانک کھلنا بند ہو جاتی ہیں اور پھر ایک دو دن بعد واپس بحال ہو جاتی ہیں۔ کبھی ان کا ریکارڈ حذف ہو جاتا ہے اور کبھی واپس آ جاتا ہے۔
دو تین دن قبل میں نے آپریٹنگ سسٹم کی نیٹ ورک کی ترتیبات ریسیٹ کیں اور گوگل کے ڈی این ایس سرور ڈالنا بھول گیا۔ ان دنوں میرے پاس آپ کا بلاگ صرف ایک بار ہی کھلا تھا۔ اس کے علاوہ بڑی کوششوں کے باوجود نہیں کھلا۔ ڈیفالٹ طریقے (ڈی ایچ سی پی) میں آئی ایس پی والے ڈی این ایس سرور خود ہی منتخب ہو جاتے ہیں چنانچہ ایسا بھی نہیں کہ میں کسی بھی ڈی این ایس سرور کے بغیر کوشش کر رہا تھا (اور پھر باقی سب کچھ بھی ٹھیک چل رہا تھا)۔ پھر جب یاد آیا تو گوگل کے ڈی این ایس سرور واپس ڈال دیے۔ چنانچہ بلاگ کھلنے لگ گیا۔
خلاصہ یہ ہوا کہ کم از کم جو لوگ پی ٹی سی ایل کے انٹرنیٹ کے صارفین ہیں، وہ پی ٹی سی ایل کے بجائے گوگل یا اوپن ڈی این ایس والے سرور استعمال کر لیں تو بہتر رہے گا۔ اس سے صرف آپ کے بلاگ پر ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی جگہ فائدہ ہوگا اور ڈی این ایس لک اپ کی رفتار بھی بہتر ہو جائے گی
Taheem said
محترم اجمل صاحب
بلاگ پر خوش آمدید
تفصیل سے اپنے بلاگ کی نا کھلنے کی وجہ بیان کرنے کا شکریہ
کافی کچھ سمجھ سے باہر ہے ٹیکنکل پر مطلب اخذ کر لیا گیا ہے
اور رہی بات باورچی خانہ کی
تو با خدا یہ ہرگز ہرگز میرا نا سمجھیئے گا
میرا کافی نفیس اور سلیقہ سے باترتیب سامان کے ساتھ ایک خوبصورت باورچی خانہ ہے
جسے دن بھر صفائی کرواتی اور خود بھی کرتی رہتی ہوں
یہ تو ان تہزیب یافتہ قوم کا کچن ہے جو مہزب ہونے کے دعوےدار ہیں
مگر جاہلیت کے دور کی یاد دلاتے ہیں صرف کھانے ہی میں نہیں زندگی کے ہر شعبے میں
تفصیل میں جانا پسند نہین میری تفصیل سے اکثر گھر والے پریشان ہو جاتے ہین کہ بال کی کھال نکال لی جاتی ہے
پہلی بار آئے ہیں
راستہ نہ بھول جایئے گا
آتے جاتے رہا کیجئے
بزرگ گھر آئیں تو برکت رہتی ہے گھرمیں
شکریہ
Saad said
اف یہاں انسان رہتے ہیں یا جانور!!!۔
Taheem said
دیکھنے میں انسان نما لوگ ہی ہوتے ہین یہان تو
Darvesh Khurasani said
باورچی خانہ یا کباڑ خانہ
Taheem said
جو چاہیں سمجھ لیجئے
tania rehman said
اپ نے پوچھا کہ ایسا باورچی خانہ دیکھا ہے کہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی تو میرا جواب ہے دیکھا ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہی۔۔۔۔۔۔ہاہاہاہ
Taheem said
ایسے باورچی خانے ہوتے ہیں تو کباڑ خانے کا سوچیئے کیا ہوتا ہوگا
یاسر خوامخواہ جاپانی said
بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ۔
کیا اس باورچی خانے میں زلزلہ آیا تھا؟
یا تسونامی کا شکار ہوا؟
میں نے ایسے باورتی کاںے صرف زلزلے والی جگہ دیکھے ہیں۔
Taheem said
یہاں کی خاتون خانہ لگتا ہے بس کھانے کی شوقین ہین بس
وقاراعظم said
واہ جی کیا خوب باورچی خانہ ہے۔ زبردست۔
لگتا ہے کہ کھانا پکانے کے علاہ یہاں کچھ اور کام نہیں کرتے یہاں۔
Taheem said
جی اور برتن دھونا یہ جانتے نہیں ہیں سمیٹنا کسے کہتے ہین یہ انہین معلوم نہیں
عدنان شاہد said
اُف اللہ کتنا گند ہے اس میں
Taheem said
کھانے کو طریقہ سے نہین رکھا اور اٹھایا جائے تو ایسا ہی ہوتا ہے
جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین said
جی ہاں۔ میں نے اسطرح کا باورچی خانہ بلکہ اس سے ملتا جلتا پورا گھر دیکھ رکھا ہے۔ حقیقت میں نہیں بلکہ اخبارات اور ٹی وی میں۔ اور میرے ایک جننے والے بطور خاص دیکھ کر آئے تھے کیونکہ پولیس کو بلوانے میں ناکا بھی ہاتھ تھا۔
اسپین میں انسیس سو چھتیس سے لیکر انیس سو انتالیس کے آخر تک خونخوار اور نہائت خوفناک خانہ جنگی ہوئی تھی ۔ جس میں جنرل فرانکو کے خلاف کچھ امریکن سول ٹروپس یعنی امیریکی حکومتی آشیرباد کے بغیر جنرل فرانکو مخالف ری پبلکن افواج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑے تھے۔ اس تباہ کن خانہ جنگی میں جنرل فرانکو کی فوجوں نے فتح پائی۔ اور پھر فورا دوسری جنگ عظیم شروع ہوگئی۔ جس میں اسپین نے بلواسطہ تو شریک نہ ہوا مگر اسپین میں جنگ جیتنے والے جنرل فرانکو نامی آمر کی دوستی ھٹلر اور مسولینی کے ساتھ تھی اور اسپین کے اندر اسکے نظریات بھی مذکورہ ھٹلر اور مسولینی سے ملتے جلتے تھے۔ خانہ جنگی کی وجہ سے اسپین کی سڑکیں پل کھیت کھیلان تباہ ہوچکے تھے متواتر چار سالوں سے اناج پیدا نہیں کیا جارہا تھا یا بہت کم پیدا کیا جارہا تھا۔ خزانہ خالی تھا۔ اور اتحادی اور دوسرے ممالک جنرل فرانکو کی مسولینی اور ھٹلر کی حمایت کی وجہ سے اتحادیوں نے اسپین پہ پابندیاں لگا رکھیں تھیں۔
اسپین کے بزرگ شہری رونگٹے کرنے والے واقعات بیان کرتے ہیں کہ کس طرح انھوں نے دو تین دھائیاں بھوک کاٹی بلییاں اور گدھے گھوڑے تک کاٹ کر کھاتے رہے۔ دو اڑھائی دائیوں پہ مشتمل بھوک نے لوگوں کی سائکی انکی نفسیات میں یہ چیز بٹھا دی کہ جو ملے اسے غنیمت سمجھو۔ کہ کوئی پتہ نہیں کب کیا ہوجائے۔
مجھے ایک بڑی بی نے جو اب انجہانی ہوچکی ہیں نے مجھے ایک بار بتایا کہ کسطرح عن عالم شباب میں انھوں نے بھوک کاٹی اور جس دن انھوں نے اپنی پہلی تنخواہ سے سفید آتے کی بریڈ خریدی۔ اس دن وہ خوشی کی آنسؤں سے رو پڑیں تھیں۔ اور برید گھر پہنچتے تک وہ کھا چکی تھیں۔ اور یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے ان کی آنکھیں اس وقت کی بے بسی سے ڈبڈبا گئیں۔
ایسے حالات نے ان خواتین کو جن کے خاوند اور خاندان جنگ میں مارے گئے انھیں نفسیاتی مریض بنا دیا۔ جن کی بہت سی داستانیں ہیں۔
اور اسطرح کا گھر اور کچن ایک نہائت ہی بوڑھی خاتون کا تھا اور تب اس دور تک اسطرح کے اکا دکا واقعات خانہ جنگی ختم ہونے کے ساٹھ پینسٹھ سال بعد تک بھی کچھ لوگوں کو اسطرح کا نفسیاتی مسئلہ رہا کہ وہ جہاں کوئی کھان پنے کی اشیاء ملتیں اسے خرید کر اپنے گھر میں ہر طرف پلاسٹک کی تھلیوں سمیت اسٹاک کرتے رہتے ۔ حتٰی کہ گھر چھت بھر جاتے۔ اشیاء بو چھوڑنے لگتیں اور پوسٹ میں یا کوئی اچانک ادہر نکل جانے والا رشتے دار یا کوئی ارد گرد کا ہمسایہ بُو محسوس کر کے پولیس کا آگاہ کردیتا۔ جو فائر بریگیڈ کو اطلاع دیتے اور گھر کو صاف کروایا جاتا اور ایک یا دو کی صورت بسنے والے بڑے بوڑھوں کو ہسپتال بیج دیا جاتا۔
افتخار اجمل بھوپال said
نہيں بيٹی نہيں ۔ اللہ سُبحانةہُ و تعالٰی نے مجھے جو عقل عطا کی ہے ميں کسی شخص کی شکل ديکھ کر اس کے اوصاف کافی حد تک سمجھ جاتا ہوں ۔ يہ باورچی خانہ آپ کا نہيں اور کسی اور ہموطن کا بھی نہيں ہو سکتا ۔ ہمارے ہاں اور کچھ ہو نہ ہو باورچی خانہ ضرور صاف رکھا جاتا ہے
آپ نے ديکھا کہ ميرے بلاگ پر آپ کا نام ديکھ کر ميرے يہ مہربان يہاں پہنچ گئے ہيں ۔ اب انہيں خوش رکھنے کيلئے آپ کو کبھی کبھی لکھنا پڑے گا
Taheem said
جی ضرور لکھیں گے بس کم لکھیں گے
اور آپ کے بارے میں کچھ جاننے کے لئے کیا کرنا پڑے گا
ویسے آپ اپنی آپ بیتی کیوں نہیں شروع کرتے اپنے بلاگ پر
آپ نے بیٹی کہا ہے اس سے لگتا ہے آپ نے زمانہ کچھ اچھی طرح سے آزمارکھا ہے
kamran said
allah aisay kitchen se bachay ameen
Taheem said
کامران صاحب اسی لئے کہتے ہیں شادی دیکھ کر کرنی چاہیئے
Admin said
Tibb i Nabvi
-
http://www.ImproveYourHealth.wordpress.com
-
Please use Tibb i Nabvi, remain healthy forever and also get Sawab from Allah Tala.
Wassalam.
Admin
URDU BOOKS
-
http://www.UrduBooks1.wordpress.com
-
ارتقاءِ حيات said
تشریف آوری کا شکریہ
آپ کا بلاگ دیکھا واقعی اچھی چیزیں جمع کی ہیں
امید ہے اضافہ ہوتا رہے گا
آتے جاتے رہیئے گا ہمارے بلاگ پر بھی اور تبصروں کا بھی انتظار رہے گا
mazhar said
آپ کا بلاگ پڑھ کر دل کو خوشی ہوئی
Shaukat Hussain said
کبھی نہیں دیکھا ایسا باورچی خانہ، خانہ خراب